روس کے افغانستان پر حملے کے بعد لاکھوں افغانوں کی طرح ہمارا خاندان بھی ہجرت کر کے پاکستان چلا گیا۔ ہماری پرورش وہیں ہوئی۔ بڑوں سے اپنے وطن کی کہانیاں سنتے تو ایک عجیب خلا محسوس ہوتا۔ اسکول میں کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوا، استادوں، محلے داروں اور کلاس فیلوز کا پیار ابھی بھی دیارِ ہجرت کی یاد دلاتا ہے، مگر اندر کہیں یہ خواہش زندہ رہی کہ کاش ہمارا بھی ایک اپنا ملک ہوتا، اپنا پرچم، اپنا قومی ترانہ، اور اپنے قومی دن ہوتے۔
ان دنوں ایک ہفتہ وار اخبار “ضربِ مومن” ہمارے لیے محض اخبار نہیں بلکہ ایک جذباتی سہارا تھا۔ ہم پورا ہفتہ اس کا انتظار کرتے۔ اسے پڑھ کر وطن کی کمی کچھ کم محسوس ہوتی۔ کچھ عرصے بعد روزنامہ اسلام اور میرا پسندیدہ “بچوں کا اسلام” بھی الرشید ٹرسٹ سے شائع ہونے لگا۔ مرحوم اشتیاق حسین کے ناولوں کی یاد آتی ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے آج بھی وہ ہم سے ہم کلام ہوں۔ ان سارے اخبارات میں شائع ہونے والی جنگی خبریں اور افغانستان کے شمال میں جاری جنگ کی تصاویر ایک الگ ہی دنیا دکھاتی تھیں۔ افغانستان میں شرعی نظام کی برکات، وہاں کے حکمرانوں کی خاکساری اور انصاف کے قصے، شمالی اتحاد کے مظالم، پاکستان سے جانے والے مدارس کے طلبہ کی “بہادری” اور “شہادت” کے قصے ہمارے جذبات کو مزید بھڑکاتے تھے۔ پاکستانی علماء کے سفرنامے بھی انہی اخبارات میں چھپتے۔لیکن اس وقت میرے ابا جان بی بی سی اور وائس آف امریکہ باقاعدگی سے سنتے، کچھ بھی اچھا سننے کو نہ ملتا، بالکل ابھی کی طرح۔ افغان حکومت کو منشیات فروشی، عورتوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ٹھہرایا جاتا۔
تو چلیں، اس وقت سے اب تک آپ کو اپنے پانچ مشاہدات سناتا ہوں۔
طالبان کی پچھلی حکومت میں ایک انڈین طیارے کا اغوا ہوا تھا جو انڈیا سے دبئی، پھر قندھار پہنچا۔ کچھ دنوں بعد تین پاکستانیوں کے بدلے طیارے کے مغویوں کو رہا کر دیا گیا۔ اس وقت ہمارے کیا احساسات تھے، وہ لمبی بحث ہے، لیکن مشہور صحافی ہارون رشید، جو اس وقت اس واقعے کی کوریج کر رہے تھے، نے ابھی پچھلے دنوں اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس وقت قندھار ائیرپورٹ کے سامنے جو سڑک گزرتی ہے، اس کے دوسری طرف ایک جیپ کھڑی ہوتی تھی۔ ایک دن میں قندھار بازار جا رہا تھا تو اسی جیپ والوں نے مجھے گاڑی میں بٹھا لیا۔ کچھ چلنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ طیارے کے ہائی جیکرز سے رابطے میں تھے۔ ان کے پاس وائرلیس تھے۔ گاڑی تو سادہ نمبر پلیٹ کی تھی، لیکن اس میں بیٹھے لوگ سادہ نہیں تھے۔
دوسرا واقعہ مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے۔ میں ابا جان کے ساتھ بیٹھا ریڈیو سن رہا تھا کہ امریکہ کے مختلف مقامات پر طیاروں کے ٹکرانے کی خبر آئی۔ صبح تک پتہ چلا کہ یہ خبر اتنی سادہ نہیں تھی بلکہ ہزاروں لوگ مارے گئے تھے۔ پھر اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ ہوا اور ساتھ ہی افغانستان پر حملہ ہوا۔ جنرل مشرف کی طرف سے عبدالسلام ضعیف کی امریکہ حوالگی سے لے کر ملا برادر کی گرفتاری اور استاد یاسر اور عبداللہ اخند کی شہادت تک بہت کچھ ہوا۔ پہلے امریکی بحیره عرب سے بمباری کر رہے تھے لیکن کچھ دنوں بعد یہی طیارے اب بحیرۂ عرب کے بجائے شمسی اور جیکب آباد کے میدانوں سے پروازیں بھرنے لگے۔ پاک فوج کے ہاتھ میں کلاشنکوف کی جگہ جدید اسلحے نے لے لی۔ اس واقعے نے وطن جانا اور بھی مشکل کر دیا، اور ساتھ ہی افغانستان کے بارے میں “ضربِ مومن” کی نشریات پھیکی پڑ گئیں۔
تیسرا اور دلچسپ واقعہ امریکی بمباری کے بعد مرحوم جلال الدین حقانی کے زخمی ہونے کا ہے۔ شروع میں ہی وہ بمباری کے دوران خوست “جانی خیل” کے علاقے میں زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد ان کا اتا پتہ گم ہو گیا۔ اسی دوران جامعۃ الرشید یا الرشید ٹرسٹ کی طرف سے ایک بندے کے ہاتھ تیس لاکھ پاکستانی روپے کی امداد ان کی طرف بھیجی گئی۔ امداد لانے والا شخص اس پر اصرار کر رہا تھا کہ یہ امداد میں خود جلال الدین حقانی کو دوں گا۔ امریکی حملے کے بعد حکومت بکھر چکی تھی،اقتصادی حالت خراب تھی لہٰذا مجبورا اس شخص کو بنوں سے میران شاہ، پھر خوست کے سرحدی علاقے “ترخوبی” لایا گیا، جہاں جلال الدین حقانی روپوش تھے۔ وہیں انہیں امداد تھمائی گئی۔ چار دن بعد امریکیوں نے اعلان کیا کہ جلال الدین حقانی زندہ ہیں اور خوست میں روپوش ہیں۔اور اس کے ساتھ ہی جلال الدین حقانی نے وہ جگہ بدل دی۔
چوتھا واقعہ، جو شاید آج تک کم لوگوں کو پتہ ہے، شہید امیرالمؤمنین اختر محمد منصور کی تفتان سے کوئٹہ جاتے ہوئے نوشکی کے قریب شہادت کا ہے۔ جائے وقوعہ کے قریب ایک ہوٹل اور سامنے ایک چیک پوسٹ ہے۔ شہادت سے قبل اس پوسٹ پر روک کر ان سے سیکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے سفری دستاویزات لے لی گئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ یہ آپ کو کوئٹہ میں واپس دے دی جائیں گی۔ اسی دوران ڈرون نمودار ہوئے، اختر محمد منصور نے حالات کو بھانپتے ہوئے اپنے گھر فون کر کے وصیت کر ڈالی، اور دو کلومیٹر سفر کے بعد انہیں ڈرون نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ ان کی گاڑی اور جسم جل گئے، لیکن ان کی سفری دستاویزات جائے شہادت پر صحیح سالم پائی گئیں۔ تو دستاویزات جنہوں نے لیں تھیں، لگتا ہے ان کا منصوبہ یہی تھا کہ جب آپ جل جائیں تو یہ وہیں پھینک دی جائیں گی تاکہ آپ کی شناخت ہو سکے، یا شاید واقعے سے قبل کسی کو دکھانے کے لیے تھیں کہ آپ کا ہدف بالکل ٹھیک ہے –
آخری واقعہ یہ ہے کہ جب طالبان نے افغانستان میں 2021 میں دوبارہ حکومت سنبھالی تو شمالی اتحاد کے اہم شخص فہیم دشتی طالبان کے ساتھ پنجشیر میں لڑائی میں مارے گئے۔ ان کا بی بی سی کو دیا گیا انٹرویو دیکھ رہا تھا، جو ابھی بھی بی بی سی کی ویب سائٹ پر موجود ہے، جس میں فہیم دشتی لکھتے ہیں کہ سن 2000 سے پہلے وہ ایبٹ آباد میں مقیم تھے اور شمالی اتحاد کا میڈیا ونگ وہیں سے چلاتے تھے۔ یعنی ایک طرف “ضربِ مومن” طالبان حکومت کا ساتھ دے رہا تھا، دوسری جانب ایبٹ آباد میں ایسے لوگ بھی رہ رہے تھے جو شمالی اتحاد کا میڈیا ونگ کنٹرول کر رہے تھے۔
حالات نے پلٹا کھایا۔ جامعۃ الرشید، جہاں سے ضربِ مومن کی صدا بلند ہوتی تھی، وہیں سے غضب للحق کی گونج آنا شروع ہوئی۔ مفتی عبدالرشید کی جگہ مفتی عبدالرحیم نے لے لی۔ آئے دن ان کے انٹرویوز دیکھتا ہوں، کبھی یہ گلہ ہوتا ہے کہ مرحوم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر کی ہمارے بارے میں پالیسی بڑی نرم تھی اور ان کا ہم پر بھروسہ تھا (اتنا بھروسہ کہ امریکی حملے کے بعد بھی پاکستان نہ گئے اور زابل میں اپنی موت تک روپوش رہے)۔
کچھ دنوں قبل مفتی عبدالرحیم صاحب کا انٹرویو سن رہا تھا۔ جناب کہہ رہے تھے کہ قطر دفتر میں قطر کی حکومت اور امریکیوں نے طالبان کے ہر فرد کو ہزاروں درہم دیئے، انہیں رہنے کے لیے گھر دیئے۔ جناب کی آرزو یہ ہوگی کہ وہ ان کو بھی ایسے رکھتے جیسے ہم نے ملا برادر، استاد یاسر یا ملا عبیداللہ اخند کو رکھا، یا ملا عبدالسلام ضعیف کو باندھ کر امریکیوں کے حوالے کیا۔
مفتی صاحب، جب میں اپنی 34 سالہ زندگی کے پیچ و خم دیکھتا ہوں تو اس نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ اصل مسئلہ تو ٹی ٹی پی نہیں ہے، کیونکہ آپ ذرا گنتی کر کے بتائیں کہ افغانستان پر پچھلے ایک سال سے جاری پاکستانی بمباریوں میں آپ نے کابل سے ننگرہار، خوست، پکتیا اور ہلمند تک کتنے ٹی ٹی پی والے مارے ہیں؟ اور کتنی ملکی اور حکومتی املاک کو نشانہ بنایا؟ ٹی ٹی پی والے تو پشاور، وانا اور میران شاہ کی اطراف میں ناچ رہے ہیں۔
اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ آپ 1999 سے پہلے کی طرح کا افغانستان چاہتے ہیں۔ آپ چاہتے ہیں کہ افغانستان کی خارجہ پالیسی آپ کے تابع ہو۔ آپ چاہتے ہیں کہ اغوا کار آپ کے ہوں لیکن ڈیلنگ قندھار میں ہو، اور آپ چاہتے ہیں کہ حملہ نیویارک میں ہو اور آپ ملا ضعیف کے ساتھ نیٹو سپلائی کے روٹ کی ڈیلنگ بھی کریں۔ آپ جیکب آباد اور شمسی کے میدانوں سے بمباری تورا بورا پر کروائیں، لیکن اسامہ بن لادن ایبٹ آباد بلال ٹاؤن سے ملے۔ آپ چاہتے ہیں کہ جب چاہیں ملا اختر محمد منصور جیسا واقعہ کروا دیں اور جب چاہیں انہیں پناہ دے کر ان پر اپنا احسان جتائیں۔
لیکن یہ “ضربِ مومن” سے “غضب للحق” کا سفر شاید آپ کے اپنے پاکستانیوں کو بھی پسند نہیں، اسی لیے آپ اسے ضربِ مومن کی طرح کھلے عام نہیں بیچ رہے بلکہ کمنٹس بند کر کے اپنی ویڈیوز پوسٹ کر رہے ہیں۔

























































































































































































