عالمی نظام کی ازسرِ نو تشکیل: جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک ازسرِ ترتیب

جنوبی ایشیا کا مغربی حصہ ایک طویل عدم استحکام کے دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بظاہر یہ مختلف اور الگ الگ بحران نظر آتے ہیں، لیکن اگر انہیں وسیع جغرافیائی سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک گہری اسٹریٹجک تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایسی تبدیلی جو آئندہ برسوں میں اتحادوں، تجارتی راستوں اور علاقائی طاقت کے توازن کو نئی شکل دے سکتی ہے۔

مرکزی خطے میں دو فعال محاذ

اس وقت عدم استحکام دو باہم جڑے ہوئے محاذوں پر بڑھ رہا ہے، جو امریکی سینٹرل کمانڈ (USCENTCOM) کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

Map of U.S. Central Command area of responsibility covering Middle East and Central Asia

USCENTCOM Area of Responsibility. Source:
https://www.centcom.mil/MEDIA/igphoto/2002844889/

امریکہ/اسرائیل–ایران کشیدگی

پہلا محاذ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ہے۔ ایران سے منسلک اہم اہداف پر براہِ راست حملوں کے جواب میں ایران نے خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ خلیج میں سمندری راستوں کی بندش یا خلل کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جبکہ یہی راستے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہیں۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ دونوں جانب سے کشیدگی ایک ناپی تلی حکمتِ عملی کے تحت بڑھتی نظر آتی ہے۔ یہ حادثاتی تصادم نہیں لگتا بلکہ اس میں دباؤ ڈالنے، پیغام دینے اور علاقائی بالادستی کی بڑی کشمکش میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان–افغانستان فوجی کشیدگی

دوسرا محاذ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ہے۔ سرحد پار حملوں، جوابی کارروائیوں، کابل کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے الزامات اور پاکستانی فوجی نقصانات کی اطلاعات نے تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔ افغان طالبان اور پاکستانی ریاست کے درمیان کشیدگی گہری ہوتی جا رہی ہے۔

اگرچہ یہ صورتحال مقامی نوعیت کی لگ سکتی ہے، لیکن خلیجی کشیدگی کے ساتھ اس کا بیک وقت سامنے آنا اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کہیں یہ دونوں محاذ کسی بڑی جغرافیائی سیاسی ترتیب کا حصہ تو نہیں۔

عدم استحکام کے پیچھے پانچ اسٹریٹجک ستون

۔۱۔ چین–روس سمندری راہداری کو غیر مؤثر بنانا 

علاقائی بے چینی کے مرکز میں گوادر اور بحیرۂ عرب تک رسائی کا معاملہ ہے۔

چین اور روس کے لیے قابلِ اعتماد سمندری راستے نہایت اہم ہیں۔ انہیں درکار ہے:

  • ایسے تجارتی راستے جو مغربی کنٹرول والے اہم گزرگاہوں سے بچ سکیں،
  • یوریشیا کو گرم پانیوں سے ملانے والی اسٹریٹجک رسائی،
  • بحرِ ہند تک طویل المدتی فوجی رسائی کی صلاحیت۔

اگر پاکستان، ایران اور افغانستان میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو اس سے:

  • گوادر کی مکمل فعالیت متاثر ہوگی،
  • چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی توسیع سست پڑے گی،
  • یوریشیا کی بلا رکاوٹ سمندری رسائی محدود ہو جائے گی۔

یوں یہ عدم استحکام کثیر القطبی نظام کے پھیلاؤ کو روک کر موجودہ سمندری بالادستی کے ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

۔2۔ بلوچستان کی تقسیم کا امکان

بلوچستان، جو پاکستان اور ایران دونوں میں پھیلا ہوا ہے، جغرافیائی طور پر نہایت اہم خطہ ہے۔ اس کے پاس:

  • بڑی معدنی دولت،
  • اہم ساحلی پٹی،
  • توانائی کی ترسیل کے امکانات موجود ہیں۔

اگر بلوچستان تقسیم ہو جائے یا ایک الگ خطہ بن جائے تو:۔

  • پاکستان کی جغرافیائی وحدت متاثر ہوگی،
  • ایران کی اسٹریٹجک گہرائی کمزور ہوگی،
  • بیرونی طاقتوں کو وسائل پر اثر و رسوخ ملے گا،
  • ایک مستقل جغرافیائی دباؤ کا علاقہ قائم ہو جائے گا۔

یہ حکمتِ عملی ماضی کی اُن پالیسیوں سے ملتی جلتی ہے جن میں ابھرتی ہوئی علاقائی طاقتوں کو کمزور کرنے کے لیے انہیں اندرونی طور پر تقسیم کیا گیا۔

۔3۔ افغانستان بطور پراکسی دباؤ کا میدان

بڑی طاقتیں اب براہِ راست فوجی مداخلت کم کرتی ہیں۔ اس کے بجائے پراکسی جنگوں کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ یہ سبق امریکہ نے 9/11 کے بعد افغانستان کی طویل جنگ سے سیکھا۔

اگر افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی طویل ہو جائے تو اس سے:۔

  • اسلام آباد کے فوجی اور معاشی وسائل پر دباؤ پڑے گا،
  • پاکستان اندرونی مسائل میں الجھا رہے گا،
  • علاقائی سطح پر اس کی حکمتِ عملی محدود ہو جائے گی۔

ایک مصروف اور دباؤ میں گھرا ملک آزادانہ فیصلے کم کر پاتا ہے اور بیرونی اثر و رسوخ کا زیادہ شکار ہو سکتا ہے۔

۔4۔ سی پیک کی کمزوری: کشمیر اور گلگت بلتستان

سی پیک کا شمالی راستہ گلگت بلتستان سے گزرتا ہے اور چین کو پاکستان کی بندرگاہوں سے جوڑتا ہے۔

اگر کشیدگی بڑھے:۔

  • کشمیر میں،
  • گلگت بلتستان میں،
  • یا سرحدی تنازعات میں،

تو چین اور پاکستان کے زمینی رابطے کو براہِ راست خطرہ ہو سکتا ہے۔

اگر یہ شمالی راستہ متاثر ہوتا ہے تو سی پیک کی معاشی اہمیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ یہاں بھارت کا کردار بھی سامنے آتا ہے، جو امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات رکھتا ہے اور چین کے ساتھ طویل تنازع میں ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان پر تاریخی دعوے بھارت کو اس معاملے میں متحرک ہونے کا محرک فراہم کرتے ہیں۔

آج کے دور میں انفراسٹرکچر منصوبے محض معاشی منصوبے نہیں رہے بلکہ اسٹریٹجک شہ رگ بن چکے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہی راہداریاں جغرافیائی سیاسی تناؤ کی لکیر بھی بن گئی ہیں۔

۔۵۔ یک قطبی بالادستی کی بحالی

وسیع تر سطح پر دیکھا جائے تو ممکنہ مقصد ابھرتے ہوئے
 کثیر القطبی اتحادوں، جیسے برکس (BRICS)
، کو محدود کرنا ہو سکتا ہے۔

پاکستان–افغانستان–ایران محور میں عدم استحکام:۔

  • علاقائی اتحاد کو روکتا ہے،
  • متبادل مالی اور توانائی نظاموں کی تشکیل کو محدود کرتا ہے،
  • مغربی بالادستی کو مضبوط کرتا ہے۔

منقسم خطے، متحد بلاکس کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے متاثر کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح کثیر القطبی نظام کی رفتار سست پڑ سکتی ہے اور پرانا طاقت کا ڈھانچہ برقرار رہتا ہے۔

اہم مشاہدات

اس تجزیے سے چند نمایاں نکات سامنے آتے ہیں:

  1. یہ تنازعات محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
  2. اقتصادی راہداریاں اب ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ اسٹریٹجک کمزوری کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں، خاص طور پر چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تناظر میں۔
  3. پراکسی تنازعات روایتی بڑی جنگوں کی جگہ لے رہے ہیں۔
  4. جنوبی ایشیا کثیر القطبی خواہشات اور پرانے عالمی نظام کے درمیان دباؤ کا میدان بنتا جا رہا ہے۔

خلیجی عدم استحکام اور پاکستان–افغانستان کشیدگی کا بیک وقت سامنے آنا محض اتفاق نہیں لگتا۔ یہ ایک ایسی پیچیدہ کشمکش کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں جغرافیہ، انفراسٹرکچر اور سیاسی تقسیم کو مرکزی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

نتیجہ

موجودہ صورتحال صرف چند حملوں یا سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں۔ ممکن ہے ہم جنوبی ایشیا کے جغرافیائی سیاسی ڈھانچے کی بتدریج ازسرِ نو تشکیل دیکھ رہے ہوں۔ ایسی تشکیل جس میں تجارتی راستے، اتحاد اور علاقائی سالمیت، عالمی طاقتوں کی کشمکش کے تحت نئی ترتیب پا رہے ہیں۔

یہ تبدیلی آہستہ آہستہ آگے بڑھے یا اچانک شدت اختیار کرے، اس کا اثر نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پورے یوریشیا اور عالمی طاقت کے توازن پر بھی پڑے گا۔

Share this post:
Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Telegram

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Post comment

Recent posts